اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل سعود کے اندرون خانہ حالات کے بارے میں اہم انکشافات کرنے والے ٹویٹر کے صارف "مجتہد" نے اپنے پیج پر لکھا ہے کہ سعودی عرب میں آنے والے چند دنوں میں نہیں تو چند ہفتوں میں رونما ہونے والے واقعات بہت اہم ہونگے اور یہ واقعات اتنے عظیم ہونگے کہ اس سے پورے خطے پر اثرات مرتب ہونگے۔ مجتہد کا کہنا ہے: مستقبل قریب میں سعودی عرب میں بہت عظیم واقعات و حوادث اور بحرانوں کا انتظار کرو اور یہ واقعات اور بحران علاقے کے متاثر کریں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے موجودہ بحرانوں کے بارے میں مجتہد کی پیشنگوئی نیز داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں سعودی حکام کی حیرت اور سرگردانی سے تعلق رکھتی ہے۔ آل سعود نے حال میں عجیب فیصلے کئے ہیں اور عجیب بحرانوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ شام کے بحران اور لبنان کی سیاسی صورت حال میں سعودی موقف، مصر کی عسکری حمایت کا اعلان، سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کو کوششوں کے باوجود مسترد کرنا اور سعودی وزیر خارجہ کا جنرل اسمبلی میں خطاب سے انکار سب کے سب اس حقیقت کے غماز ہیں کہ سعودی سعودیوں کی سرگردانی اور نامعقولیت کی انتہا یہ ہے کہ وہ علاقے میں اپنے تعلقات مستحکم کرنے کے بجائے اپنی پوری توجہ مغرب اور اسرائیل پر مرکوز کئے ہوئے ہیں؛ ایران اور مغرب کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت پر آل سعود کا موقف 100 فیصد یہودی ریاست کے موقف سے مماثلت رکھتی ہے اور نہ صرف امریکی وزیر خارجہ نے اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کی ہے بلکہ اسرائیلی حکام نے بار بار کہا ہے کہ ایران کے معاملے میں سعودی اور اسرائیلی موقف ایک ہی ہے اور سعودی حکام بھی اعلانیہ طور پر اسرائیل سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اس حوالے سے حال ہی میں بندر بن سلطان اور صہیونی موساد کے سربراہ کے درمیان اردن میں ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ سعودی عرب امریکہ کو بلیک میل کرکے اپنے ساتھ بہتر تعلقات رکھنے کی خاطر ایران کے ساتھ مذاکرات سے روکنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ امریکہ اپنے مفاد کی خاطر سعودی عرب کو تو کیا اسرائیل کو بھی قربان کرسکتا ہے اور ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش امریکیوں کی مجبوری ہے اور یہ امریکی مفادات کا تقاضا ہے چنانچہ وہ آل سعود کو تو تنہا چھوڑ سکتا ہے لیکن اپنے مفادات پر حرف نہيں آنے دے سکتا جبکہ سعودی عرب نے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کی عمارت مکمل طور پر منہدم کی ہوئی ہے اور بہت جلد اس مرحلے پر پہنچ رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہے اور اگر امریکہ بھی اس کو تنہا چھوڑ دے تو اس کو باہر سے نہيں تو اندرونی سطح پر لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ سعودی عرب کو اندرونی سطح پر بھی شدید مسائل کا سامنا ہے، عوام کے اپنے مطالبات ہیں لیکن حکام انہيں کچلنے پر اصرار کررہے ہیں؛ ہزاروں قیدی بغیر مقدہ چلائے اذیتکدوں میں رکھے ہوئے ہیں اور لگتا ہے کہ انہیں آخری سانسوں تک ان اذیت گاہوں میں ہی رکھا جائے گا کیونکہ ان کی رہائی کا کوئی ارادہ یا کوئی فیصلہ نہيں ہوا ہے۔ سعودی عرب میں ہر قسم کا احتجاج اور حکام کے خلاف اظہار رائے جرم ہے اور عوامی احتجاج کو پوری طاقت اور تشدد کے ساتھ کچل دیا جاتا ہے؛ جبکہ سعودی عرب میں 80 فیصد لوگ کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں، وہ معاشی بدحالی اور امتیازی سلوک سے ناراض ہیں؛ وہ اپنی اس صورت حال پر کئی مرتبہ تنقید اور احتجاج بھی کرتے ہيں لیکن ان کا کوئی حق تسلیم شدہ نہیں ہے۔ عورتیں اس حکومت میں محروم ترین مخلوقات ہیں؛ انہیں گھر میں بند کیا جاتا ہے لیکن اگر باپردہ ہوکر بھی گھر سے نکلیں تو انہیں سعودی مکتب کے پرورش یافتہ نوجوانوں اور پولیس والوں ـ بالخصوص امر اور نہی والی پولیس ـ کی طرف اذیت و آزار کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کا کوئی حق اس ملک میں تسلیم نہيں کیا جاتا۔ اور یہ سب اندرونی بحرانوں کے مصادیق ہیں جن کا اس عرب معاشرے کو سامنا ہے۔ کم اجرتیں اور رہائش کا بحران بھی حل نہيں ہوسکا ہے جبکہ عوام نے ان دو مسائل کو حل کرانے کے لئے انٹرنیٹ پر پٹیشن مہم چلائی ہے اور کروڑوں سعودیوں نے پٹیشنز پر دستخط کئے ہیں لیکن شاید سعودی حکمران اس طرح کے نہایت پرامن احتجاج کو احتجاج ہی نہیں سمجھتے اور ریلی اور جلوس یا مظاہرے کو حرام اور انہیں کچلنا اپنے اوپر فرض سمجھتے ہیں۔ حالانکہ سعودی عرب تیل اور گیس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے لیکن تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدنی یا تو شہزادوں اور وہابی مفتیوں میں تقسیم کی جاتی ہے یا پھر جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر شمالی افریقہ تک فرقہ واریت پھیلانے اور وہابیت کو فروغ دینے کے لئے خرچ ہوتی ہے۔ اس آمدنی کا ایک بڑا حصہ عراق اور شام میں قتل و غارت کرانے پر خرچ کیا جارہا ہے؛ اور یوں بلاد الحرمین کے عوام کو اپنی اس دولت میں سے ایک پائی بھی نہیں ملتی۔ غیرملکی مزدوروں کے ساتھ غلاموں کا سا سلوک کیا جاتا ہے اور ان کے حقوق کو کسی صورت میں بھی تسلیم نہيں کیا جاتا اور حال ہی میں تو غیر ملکی مزدوروں کے ساتھ آل سعود کا رویہ نہایت خطرناک حد تک تشدد آمیز ہوگیا ہے۔ غیر ملکی مزدوروں پر تشدد کے حوالے سے ایتھوپیائی مزدوروں اور ان کے اہل خانہ پر سعودیوں کی زیادتی کا مسئلہ بھی ایک بحران کی صورت میں سعودی حکومت کے گلے پڑ گیا ہے۔ تین ایتھوپیائی باشندے سعودی پولیس کے ہاتھوں ہلاک بھی ہوئے ہیں اور اب ایتھوپیا کی حکومت احتجاج کررہی ہے۔
ایتھوپیائی عورتوں پر سعودی فورسز کی جنسی زیادتی، ایتھوپیا کے عوام و حکومت کا غیظ و غضبسعودی سیکورٹی فورسز اور کرائے کے گماشتوں نے ریاض میں رہائش پذیر ایتھوپیائی عورتوں اور لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ عراق کی خبر ایجنسی نہرین نیٹ نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی فورسز نے ریاض کے محصور محلے "منفوحۃ الاعشی" میں ایتھوپیا کے مزدوروں کے احتجاج کو انتہائی تشدد آمیز کاروائیوں کے نتیجے میں کچلنے اور 3 کو قتل اور 100 کو زخمی کرنے کے بعد اس محلے کی ایتھوپیائی عورتوں اور لڑکیوں کو وسیع سطح پر جنسی جارحیت کا نشاہ بنایا جس کی وجہ سے ایتھوپیا کی حکومت اور عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عینی شاہدین نے کہا ہے کہ اتنی وسیع سطح پر خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ تاریخ میں بھی شاذ و نادر رونما ہوا گا۔ اس واقعے کا نشانہ بننے کے بعد محلے کے مکینوں نے ریاض میں ایتھوپیا کے سفارتخانے سے رابطہ کیا جس پر سفیر نے سعودی حکومت سے سخت الفاظ میں احتجاج کرکے اپنے ہم وطنوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایتھوپیائی سفیر نے گرفتار ایتھوپیائی باشندوں کے ساتھ انسانی سلوک کا مطالبہ کرتے ہوئے آل سعود سے کہا ہے کہ وہ اپنے گماشتوں کو منفوحۃ الاعشی میں محصور تارکین وطن کی جان و مال اور ناموس پر حملے کرنے سے باز رکھیں۔ گذشتہ ہفتے کو درجنوں ایتھوپیائی مزدور سعودی عرب سے نکال دیئے گئے اور اس کے بعد منفوحۃالاعشی پولیس کے گھیرے میں ہے۔ نہرین نیٹ نے لکھا ہے کہ ابتداء میں عام کپڑوں میں ملبوس گماشتوں نے ایتھوپیائي عورتوں اور نوجوان لڑکیوں پر حملہ کیا اور جب ان میں سے بعض نے فرار ہوکر باوردی پولیس اہلکاروں سے مدد مانگی تو انھوں نے بھی انہیں جنسی تجاوز کا نشانہ بنایا۔ اس خبر ایجنسی کے مطابق سعودی حکمران اس رسوائی کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں اور سعودی اہلکاروں نے ایتھوپیائی سفارتخانے کے عملے کو موقع کا معائنہ کرنے سے روک لیا ہے۔
ایتھوپیا کی حکومت نے ایتھوپیائی خواتین پر سعودی فورسز کے جنسی تشدد پر احتجاج کیاایتھوپیا کی حکومت نے اس ملک کے مزدوروں کی بیویوں اور بیٹیوں پر آل سعود کی فورسز کے جنسی تشدد پر احتجاح کیا ہے۔ ادھر عراق کی خبرایجنسی نہرین نیٹ کے مطابق ایتھوپیا کے مسلمان سعودی حکومت کی سیکورٹی فورسز اور ان سے وابستہ بدمعاشوں کی طرف سے سینکڑوں گرفتار ایتھوپیائی مزدوروں کی بیویوں اور بیٹیوں پر جنسی تشدد اور ایتھوپیائی مزدوروں کے ساتھ غیر انسانی طرز سلوک پر احتجاج کیا ہے۔ ریاض میں ایتھوپیا کے سفیر نے کہا ہے کہ جرائم پیشہ گروپوں نے حالات کا ناجائز فائدہ اٹھاکر عورتوں اور بچیوں کا نشانہ بنایا اور جب انھوں نے پولیس سے مدد مانگی تو پولیس اہلکاروں نے بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کیا اور ان سب نے گھروں میں مردوں کی غیر موجودگی سے غلط فائدہ اٹھایا۔ ایتھوپیا کے سفیر نے منفوحۃالاعشی میں ہونے والے اس ہولناک جرم کے بارے میں غیرجانبدارانہ تحقیقات اور مجرمین کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا: سعودی حکومت نے ایتھوپیائی مزدوروں کو بلاجواز گرفتار کیا جس کی وجہ سے ان کے گھر مردوں سے خالی رہ گئے اور پولیس اور ان سے وابستہ بدمعاشوں نے اس درندگی کا ارتکاب کیا اور ان کے اموال اور سازو سامان کو چوری کرکے لے گئے۔ ایتھوپیائی باشندوں نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان سب کو پکڑ کر ملک سے نکال باہر کرے لیکن ان کی حرمت کو پامال نہ کرے۔ انھوں نے کہا ہے کہ احتجاج میں دوسرے ممالک کے باشندے بھی تھے لیکن حکومت نے صرف ان کو نشانہ بنایا ہے۔ اور جن سیکورٹی والوں سے ہماری خواتین نے پناہ مانگی انھوں نے ان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ایک ویڈیو: روئے زمین پر ایتھوپائی باشندوں کا جہنم! ایتھوپیا کے وزیر اطلاعات نے "روئے زمین پر جہنم The Hell on the Earth" کے عنوان سے ایک ویڈیو کلپ نشر کرکے سعودی عرب میں غیر ملکی مزدوروں کی ناگفتہ بہ حالت پر احتجاج کرتے ہوئے عالمی برادری سے ایتھوپیائی باشندوں کی نجات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس ویڈیو میں سعودی باوردی پولیس اہلکاروں کے ساتھ عام عربی لباس میں ملبوس افراد ان ایتھوپیائی باشندوں کو وحشیانہ انداز میں زد و کوب کررہے ہیں جن کے ہاتھ پاؤں پشت سے بندھے ہوئے ہیں۔ ویڈیو کے دوسرے حصے میں پولیس والے زخمی ایتھوپیائیوں کو بندوقوں کے بٹ مار کر مضروب کررہے ہیں جبکہ تیسرے حصے میں ایک مقتول ایتھوپیائی باشندے کا لباس خنجر سے پھاڑا جارہا ہے تا کہ مثال کے طور پر اس کی موت کا سبب معلوم کیا جاسکے اور آخر میں سینے پر ایک گولی کا نشان دکھایا جاتا ہے جس سے اس کی موت واقع ہوئی ہے۔ یہ ویڈیو ایک متاثر کن موسیقی کے ساتھ کمپوز کی گئی ہے اور غیر ملکیوں کے ساتھ آل سعود کے طرز سلوک کو طشت از بام کرتی ہے۔ اس فلم میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں سے درخواست کی جاتی ہے کہ اس مسئلے پر رد عمل ظاہر کریں تاکہ یہی رویہ دوسرے ملکوں کے مزدروں کے ساتھ نہ دہرایا جاسکے۔ یہ ویڈیو العالم پر موجود ہے جس کا ایڈریس یہ ہے: روئے زمین پر جہنم ۔۔ 18+ ویڈیو کے اسکرین پر درج ہے: اس ویڈیو میں ایسے مناظر ہیں جو بعض لوگوں کے لئے ناقابل برداشت ہوسکتے ہیں۔
منفوحۃالاعشی کے واقعے ایک سعودی مفتی کا موقف متنازعہ بن گیاسعودی ـ وہابی مبلغ اور محمد بن سعود یونیورسٹی